باپ حِزقیاہ کی سُنتا اور اُسے شفا دیتا ہے
20 1اُن دِنوں میں حِزقیاہ بیمار ہوا اور موت کے قریب تھا۔ آموص کا بیٹا یسعیاہ نبی اُس کے پاس آیا اور کہا، ”ہمارا باپ یوں فرماتا ہے: اپنے گھر کا اِنتظام کر لے؛ تُو مر جائے گا، جِیتا نہ رہے گا۔“
2تب حِزقیاہ نے اپنا مُنہ دیوار کی طرف پھیرا اور ہمارے باپ سے دُعا کی: 3”اے باپ، یاد کر کہ مَیں کِس وفاداری سے، پُورے دِل کے ساتھ تیرے حضور چلا ہُوں اور جو تیری نظر میں بھلا ہے وہی کیا ہے۔“ اور حِزقیاہ زار زار رویا۔
4اِس سے پہلے کہ یسعیاہ بِیچ کے صحن سے باہر نکلے، ہمارے باپ کا کلام اُس پر نازِل ہوا:
5”لَوٹ جا اور میری قوم کے سردار حِزقیاہ سے کہہ: تیرا باپ، تیرے باپ داؤد کا خُدا، یوں فرماتا ہے: مَیں نے تیری دُعا سُنی اور تیرے آنسو دیکھے ہیں۔ مَیں تُجھے شفا دُوں گا۔ تِیسرے دِن تُو میرے گھر میں جائے گا۔ 6مَیں تیری عُمر میں پندرہ برس بڑھا دُوں گا، اور تُجھے اور اِس شہر کو اسور کے بادشاہ کے ہاتھ سے چُھڑاؤں گا، اور اپنی خاطر اور اپنے بندے داؤد کی خاطر اِس شہر کی حِفاظت کرُوں گا۔“
7یسعیاہ نے کہا، ”اِنجیر کی ٹِکیا لاؤ۔“ اُنہوں نے اُسے لا کر پھوڑے پر رکھا اور وہ اچھا ہو گیا۔
8حِزقیاہ نے یسعیاہ سے پُوچھا، ”اِس بات کا کیا نِشان ہے کہ ہمارا باپ مُجھے شفا دے گا اور مَیں تِیسرے دِن ہمارے باپ کے گھر میں جاؤں گا؟“
9یسعیاہ نے کہا، ”ہمارے باپ کی طرف سے تیرے لیے یہ نِشان ہے کہ ہمارا باپ اپنا وعدہ پُورا کرے گا: کیا سایہ دس زِینے آگے بڑھ جائے، یا دس زِینے پیچھے ہٹ جائے؟“
10حِزقیاہ نے جواب دیا، ”سائے کا دس زِینے لمبا ہو جانا تو آسان ہے؛ نہیں، بلکہ وہ دس زِینے پیچھے ہٹ جائے۔“
11چُنانچہ یسعیاہ نبی نے ہمارے باپ کو پُکارا، اور اُس نے سائے کو اُن دس زِینوں پر پیچھے لَوٹا دیا جِن سے وہ آخز کی سِیڑھی پر اُتر چُکا تھا۔
حِزقیاہ بابل کے قاصِدوں کا اِستقبال کرتا ہے
12اُس وقت بابل کے بادشاہ بلَدان کے بیٹے بروَدک بلَدان نے، یہ سُن کر کہ حِزقیاہ بیمار رہا ہے، اُس کے پاس خط اور ایک تحفہ بھیجا۔ 13حِزقیاہ نے اُن کا اِستقبال کیا اور اپنے سارے خزانے کا گھر اُنہیں دِکھایا: چاندی، سونا، مصالحے، عُمدہ تیل، اپنا سارا اسلحہ خانہ، اور اپنے گوداموں کی ہر چِیز۔ حِزقیاہ کے محل میں اور اُس کی ساری مملکت میں کوئی چِیز ایسی نہ تھی جو اُس نے اُنہیں نہ دِکھائی ہو۔
14یسعیاہ نبی بادشاہ حِزقیاہ کے پاس آیا اور پُوچھا، ”اِن آدمیوں نے کیا کہا، اور یہ کہاں سے آئے تھے؟“ حِزقیاہ نے کہا، ”ایک دُور کے مُلک بابل سے۔“
15یسعیاہ نے پُوچھا، ”اُنہوں نے تیرے محل میں کیا کیا دیکھا؟“ حِزقیاہ نے جواب دیا، ”جو کُچھ میرے محل میں ہے سب کُچھ۔ میرے خزانوں میں کوئی چِیز نہیں جو مَیں نے اُنہیں نہ دِکھائی ہو۔“
16تب یسعیاہ نے حِزقیاہ سے کہا، ”ہمارے باپ کا کلام سُن:
17وہ دِن آنے والے ہیں جب تیرے محل کی ہر چِیز، اور جو کُچھ تیرے باپ دادا نے آج تک جمع کیا ہے، سب بابل کو لے جایا جائے گا۔ کُچھ باقی نہ رہے گا، ہمارا باپ فرماتا ہے۔ 18اور تیرے اپنے بیٹوں میں سے کُچھ، تیری اولاد، لے جائے جائیں گے تاکہ وہ بابل کے بادشاہ کے محل میں خواجہ سرا بن کر خِدمت کریں۔“
19حِزقیاہ نے کہا، ”ہمارے باپ کا کلام جو تُو نے کہا وہ بھلا ہے۔“ کیونکہ اُس نے سوچا، ”کیا میرے دِنوں میں امن اور سلامتی نہ رہے گی؟“
20حِزقیاہ کے باقی کام، اور اُس کی ساری قُدرت، اور یہ کہ اُس نے کِس طرح تالاب اور سُرنگ بنائی تاکہ پانی کو شہر میں لائے—کیا یہ سب یہوداہ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں لِکھا نہیں؟ 21پھر حِزقیاہ اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا، اور اُس کا بیٹا منسّی اُس کی جگہ بادشاہ ہوا۔